مظفرنگر /اترپردیش 20/ اگست (ایس او نیوز ) ضلع مظفرنگرکے قصبہ کھتولی میں سنیچر شام کو رونما ہونے والے ریل حادثہ کی تفصیلات آنی شروع ہوگئی ہیں۔سرکارکی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں ہنوز 20؍لاشوں کی ہی تصدیق ہو پائی ہے ۔مگر اس معاملہ کا قابل غور پہلو یہ ہیکہ زخمیوں کی بڑی تعداد دار الحکومت دہلی اور این سی آر کے اسپتالوں میں داخل کیے گئے تھے۔ ضلع انتظامیہ ان کے بارے میں درست صورت حال نہیں بتا رہا ہے ،جس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد کافی زیادہ ہوگی۔
ریلوے ترجمان انل سکسینہ کے مطابق لاشوں کی شناخت کا کام جاری ہے ۔ہلاک شدگان میں مظفرنگر کے اندرا کالونی کے رامپال شرما، رامپورکے ونیت متل جٹ مجھیڈا رہائشی پرمود کی شناخت کی گئی ہے،جبکہ دیگر ہلاک شدگان میں ترلی پرجا پتی ساکن مرینا، وشنو گوسوامی ساکن گوالیر، رنکی کماری ساکن آگرہ، کرشمہ ساکن سہارنپور، برج راج پانڈے ساکن گوالیر، پریتم ساکن گوالیر، سلیم گرگ ساکن سہارنپور سمیت ۲۰؍ لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے ۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ریلوے حادثہ کے شکار چھ لوگوں کی غازی آباد اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوئی ہے، راجہ رام ولد سردار سنگھ ساکن مرینا سمیت ۲؍ کی موت میرٹھ اسپتال میں علاج کے دوران ہو گئی ہے، میرٹھ میڈیکل کالج میں داخل جگدیش ،بنارسی داس،نتھی داس ساکن مرینا ،روشن ،سونیکا ،منجو کماری ساکن مظفر نگر ،برج کشور ساکن آگرا ،ارون ،دویا گر گ ساکن میرٹھ ،گولما کماری ساکن راجستھان ،پریم وتی،چھوی رام ساکن گوالیر ، مشتاق ساکن گڈھوال ،نروتم ،ساکن پلول ہریانہ ،گیاسو دیوی گوالیر ،اگند کمار،،ونود ،گری راج ساکن راجستھان ،راجا رام ساکن مدھیہ پردیش ،پی ایل شرما ساکن راجستھان ،رام جی لال راجستھان ،برج پال سنگھ ساکن ہریدوار سمیت کئی درجن لوگوں کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔
دریں اثناء حادثہ سے متعلق ایک آڈیو کلپ سوشیل میڈیا میں وائرل ہوگیا ہے جس سے اُس فرقہ پرست ٹولہ کے منہ پر طمانچہ لگ جاتا ہے جو کل سے اس حادثہ کو بلا وجہ کی دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھ رہا تھا۔اس آڈیو کلپ میں حادثہ کے مقام سے کچھ فاصلہ پر تعینات ایک گیٹ مین اور ایک ریلوے ملازم کے درمیان بات چیت درج ہے، گیٹ مین بتا رہا ہے کہ پٹری پہلے ٹوٹی پڑی تھی، لیکن ملازمین مناسب طریقہ سے کام نہیں کررہے تھے، آڈیو میں وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ٹریک جس سے یہ ٹرین گزری ، اُسے کاٹ کر صحیح کیا جارہا تھا ، پٹری جوڑی نہیں گئی تھی اور ٹرین کے آنے کا وقت ہو گیا، حفاظت کے لیے لال پرچم کا بھی کوئی سگنل نہیں تھا، اچانک ٹرین آگئی اور تمام ریلوے ملازمین موقع سے بھاگنے لگے ،ریلوے پٹری جڑی نہ ہونے کے سبب ہی یہ بھیانک حادثہ رونما ہو ا ۔گیٹ مین کے مطابق ریلوے پٹری پر کام کرنے والے ملازم اپنی مشین بھی وہیں پر چھوڑ کرفرار ہو گئے۔
ریلوے حکام کی جانب سے لاپرائی کی بات کل ہی سامنے آگئی تھی ،لیکن سوشیل میڈیا پر وائرل اس آڈیو کلپ نے ریلوے ملازمین کی لاپروائی کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔تا ہم اس آڈیو کلپنگ کی سرکاری ذرائع نے ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ حادثہ کا شکار ہونے والی ریل گاڑی اسی ٹریک پر چل رہی تھی ۔ یہاں اس گاڑی کی رفتار کم کرنے کی ہدایت تھی۔ سگنل کی خرابی کے چلتے ڈرائیور کو حالات معلوم نہیں ہوسکے اور ریل گاڑی ۱۰۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی رہی۔ جس کے چلتے بیچ کے ڈبے قطار سے نکل کر پلٹ گئے ۔ڈرائیور ایمر جینسی بریک بھی نہیں لگا پایا ،کیونکہ ریلوے کا پورا نظام ہی آٹو میٹک ہوتا ہے۔
ریلوے ملازمین کی لاپروائی کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر ایڈیشنل پولس ڈائرکٹر جنرل بی کے موریہ نے قبول کیا کہ پٹری کی مرمت کا کام جاری تھا، جس کے چلتے ٹرین کی رفتار دھیمی ہونی چاہئے تھی، لیکن ٹرین کی رفتار کافی زیادہ تھی، ان کے مطابق مرمت کا کام کرنے والے ملازمین یا تو کاشن بورڈ لگانا بھول گئے یا ڈرائیور متعلقہ کاشن بورڈ کو نہیں دیکھ سکا، ان کے مطابق دونوں ہی صورتحال بھیانک ہے جس کے نتیجے میں اتنا بڑا حادثہ رونما ہوا ہے۔
موقع پر موجود کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس معاملہ کا ایک مکروہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایک کونے میں برف کی دس سلیاں رکھی ہوئی تھیں ،ان ہی پر لالاکر لاشوں کو پٹخا جارہا تھا۔لاشوں کا گویا ڈھیر بنادیا گیا تھا۔ جنھیں دیکھ کر اہل خانہ اور اقارب ششدر رہ گئے۔